کیا اوباما کے آنسوؤں کو بعض نے مگرمچھ کے آنسو سمجھا؟

Header Banner

کیا اوباما کے آنسوؤں کو بعض نے مگرمچھ کے آنسو سمجھا؟

  Thu Jan 12, 2017 17:02        Urdu, World

امریکی صدر براک اوباما نے بالآخر قوم سے الوداعی خطاب کر ڈالا۔ ایسے موقع پر ایک زیرک سیاستداں اور اچھے مقرر کی طرح صورتحال کو بھانپ کر پرفارم کرنا انہیں خوب آتا ہے۔ انھیں مجمع کو ہنسانے اور رلانے پر ملکہ حاصل ہے۔ اور اپنے الوداعی خطاب میں انھوں نے ایک مرتبہ پھر اس کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

ان کی تقریر کے بعد'ہیش ٹیگ اوباما فیئرویل' یعنی اوباما خدا حافظ ٹویٹر پر ٹرینڈ کرنے لگا۔

جہاں انہیں اچھے الفاظ میں یاد کرنے کا تانتا بندھا، وہیں ان کے نقاد بھی پے درپے وار کرنے سے نہیں چُوکے۔

جان وِٹ نے ٹویٹ کیا: ''اوباما کے الوداعی آنسو لیبیا، شام اور افغانستان کے اُن انگنت شہریوں کے آنسوؤں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جنہیں ان کی خارجہ پالیسی کے ہاتھوں زک پہنچی۔'

سارہ عبداللہ نے لکھا: 'شام، لیبیا، یمن، عراق اور غزہ کے لوگ صرف تین باتوں کے لیے اوباما کو یاد کریں گے اور وہ ہے بم، بم اور زیادہ بم۔

ممتاز معلوف نے سنہ دوہزار سولہ میں مختلف ملکوں پر گرائے جانے والے امریکی بموں کی گنتی دیتے ہوئے پوچھا: 'کیا آپ نے نوبیل امن انعام جیتنے والے کو کہتے سنا کہ اس نے سنہ دو ہزار سولہ میں کتنے ملکوں پر بم گرائے؟'

ایجنٹ ایلزبتھ نے نشتر چبھوتے ہوئے لکھا: 'اوباما نے کسی بھی نوبیل انعام جیتنے والے کے مقابلے میں سب سے زیادہ بچوں کو ڈرون سے ہلاک کیا۔ ذرا تالیاں تو بجائیں بھئی!'

بہت سے دوسرے ٹویٹاراٹیز (ٹویٹ کرنے والے) نے بھی طنز اور تشنیع کے کاری وار کیے ہیں۔

مگر صدر اوباما کی شخصیت اور ان کے آٹھ سالہ دورِ اقتدار کو سراہنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔

ان کے بڑے مداحوں میں مشہور صحافی اور براڈکاسٹر لیری کِنگ بھی شامل ہیں۔ انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: 'باراک اوباما کا الوداعی خطاب ولولہ انگیز تھا۔ آپ نے اپنی قوم کی خدمت اچھی طرح کی۔ جنابِ صدر آپ کا شکریہ۔'

لِیلی وائٹ نے اپنی ٹویٹ میں ان کی تصاویر پوسٹ کرکے لکھا: 'اوباما کے فوٹوگرافر نے ان کی بیس لاکھ تصاویر کھینچیں۔ مگر یہ دو تمام عمر یاد رہیں گی۔'

اقتدار جہاں انسان کو بہت سے اختیارات کا مالک بناتا ہے وہیں اوقات کانٹوں کی سیج بھی ثابت ہوتا ہے۔ نئی دوستیاں بنتی ہیں تو دشمنیاں بھی تعاقب میں آتی ہیں۔ کامیابیاں ملتی ہیں مگر حسرتیں بھی رہ جاتی ہیں۔

امریکی صدر کو دنیا کا طاقتور ترین شخص سمجھا جاتا ہے۔ مگر جاتے جاتے شاید اوباما بھی غالب کے اس مصرعہ کا کوئی انگریزی ہم معنی اندر ہی اندر گنگنا رہے ہوں:

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے


   Obama got,some tears crocodile