پاکستان کو 220 رنز سے شکست، آسٹریلیا کا کلین سوئپ

Header Banner

پاکستان کو 220 رنز سے شکست، آسٹریلیا کا کلین سوئپ

  Sat Jan 07, 2017 16:00        Sports, Urdu

سٹریلیا نے پاکستان کو سڈنی میں کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ میں 220 رنز سے شکست دے کر کلین سوئپ کر لیا ہے۔

یہ آسٹریلوی سرزمین پر کھیلی گئی لگاتار چوتھی ٹیسٹ سیریز ہے جس کے تمام ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

تفصیلی سکور کارڈ

پاکستان کا ہدف 465 رنز مگر 55 پر ایک وکٹ

اس سے قبل سنہ 1999 میں وسیم اکرم، 2004 میں انضمام الحق اور 2009 میں محمد یوسف کی قیادت میں پاکستانی ٹیم سیریز کے تینوں ٹیسٹ میچوں میں شکست سے دوچار ہوئی تھی۔

پاکستانی ٹیم کو جیتنے کے لیے 465 رنز کا ہدف ملا تھا۔ چوتھے دن کھیل کے اختتام پر اس نے شرجیل خان کی وکٹ گنواکر 55 رنز بنائے تھے۔

میچ کے آخری دن پاکستانی ٹیم 244 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔

سرفراز احمد 72 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

کھانے کے وقفے تک پاکستان کی پانچ وکٹیں 128 رنز پر گر چکی تھیں۔

اظہر علی اپنے گذشتہ روز کے سکور 10 میں صرف ایک ہی رن کا اضافہ کرسکے اور دن کے پہلے ہی اوور میں ہیزل ووڈ کی گیند پر انھی کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔

ہیزل ووڈ نے میچ میں دوسری بار بابر اعظم کو ایل بی ڈبلیو کیا جو صرف نو رنز بنا پائے۔

پہلی اننگز میں سنچری بنانے والے یونس خان کی وکٹ نیتھن لائن نے ہیزل ووڈ کے کیچ کی مدد سے حاصل کی۔

یونس خان صرف 13 رنز بنا سکے اس طرح وہ 23 رنز کی کمی سے اپنے دس ہزار رنز مکمل نہ کرسکے۔

96 رنز کے مجموعی سکور پر پاکستان کی پانچویں وکٹ گری جب نائٹ واچ مین یاسر شاہ کی مزاحمت کاخاتمہ متبادل فیلڈر جیکسن برڈ نے اوکیف کی گیند پر کیچ لے کر کیا۔

یاسر شاہ نے 93 گیندیں کھیل کر 13 رنز بنائے۔

کپتان مصباح الحق اور اسد شفیق کی 40 رنز کی شراکت کھانے کے وقفے کے بعد اس وقت ختم ہوئی جب اسد شفیق 30 رنز بناکر مچل سٹارک کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔

کپتان مصباح الحق اپنے کریئر کی مایوس ترین سیریز کی آخری اننگز میں 38 رنز بناکر اوکیف کی گیند پر مڈآف پر نیتھن لائن کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔

وہاب ریاض نے نیتھن لائن کو لگاتار تین چوکے لگائے لیکن اگلے ہی اوور میں اوکیف انھیں 12 رنز پر ریویو کے ذریعے پویلین کی راہ دکھانے میں کامیاب ہوگئے۔

سرفراز احمد نے 11 ویں نصف سنچری 61 گیندوں پر پانچ چوکوں کی مدد سے مکمل کی لیکن دوسری جانب محمد عامر پانچ رنز بناکر اوکیف کی تھرو پر رن آؤٹ ہوگئے۔

آسٹریلیا کو آخری وکٹ کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور نئی گیند کے ساتھ پہلے ہی اوور میں ہیزل ووڈ نےعمران خان کو صفر پر جیکسن برڈ کے ہاتھوں کیچ کرادیا۔

متبادل فیلڈر کی حیثیت سے یہ اس میچ میں برڈ کا چوتھا کیچ تھا۔

عمران خان نے اس میچ میں پیئر حاصل کیا۔

صرف دو ماہ میں یہ تیسرا ٹیسٹ ہے جس میں پاکستانی ٹیم آخری دن اپنے بیٹسمینوں کی مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے میچ بچانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔

نیوزی لینڈ کے خلاف ہملٹن ٹیسٹ کے آخری دن پاکستان نے چائے کے وقفے پر صرف ایک وکٹ کے نقصان پر158 رنز بنائے تھے لیکن آخری سیشن میں نو وکٹیں صرف 72 رنز پر گرگئیں۔

میلبرن ٹیسٹ میں پاکستان نے آخری دن چائے کے وقفے پر پانچ وکٹوں پر 91 رنز بنائے تھے لیکن آخری سیشن میں پانچ وکٹیں صرف 72 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھیں۔

اس قبل آسٹریلیا نے ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن اپنی دوسری اننگز 241 رنز دو کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کر کے پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے 465 رنز کا ہدف دیا تھا۔

اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے شرجیل خان نے اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں بیٹنگ کی لیکن وہ چھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 40 رنز بناکر نیتھن لائن کی گیند پر وارنر کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔

پاکستان کی یہ پہلی وکٹ 51 رنز پر گری جو اس سیریز میں اس کی سب سے اچھی اوپننگ شراکت تھی۔

کھیل کے اختتام پر اظہرعلی 11 اور نائٹ واچ مین یاسر شاہ تین رنز پرناٹ آؤٹ تھے۔


   Pakistan, 220 runs, Australia to win